بے قراریہ ہی بے قراری ہے

انکی مدحت کی و خماری ہے
میری ہر سانس مشکباری ہے

مجھکو طیبہ بلائے آقا
میری ہر سانس مجھپا بھاری ہے

جسکے حسنین سے سوار ہوئے
کیا پیامبر سے و سواری ہے

میرے بھی ہاتھ میں علم ہوگا
شیخ پرکیوں جنوں تاری ہے

میں بھی گھر جاؤنگا علم لیکر
شب اسی خواب میں گزاری ہے

سخ کو تو علم ملا ہی نہیں
بے قراریہ ہی بے قراری ہے

دشمن دین پا بھیجنا لعنت
ہر مسلمان کی زممیداری ہے

حق بیانی کرو سادہ مہدی
یہ موحبّت کی پاسداری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *