Naz Uthate Hain Mohammed Mustafa S.A. Shabeer ka

ہے نہاں پردے میں اب بھی آئینہ شبّیر کا
دینے حق کو یوں بھی ہے اک آسرا شبّیر کا

حل اتا میں دیکھ لو یا انّما میں دیکھ لو
ہے کلام حق میں ہر جا تذکرہ شبّیر کا

عقل کے اندھے ہے جنکو یہ سمجھ آتا نہیں
تول سجدے کی بڑی یا مرتبہ شبّیر کا

ناقا بنے نبی تو زمانے نے یہ کہا
ناز اٹھاتے ہیں محمّد مصطفیٰ شبیر کا

اصغر بشیر کی مسکان سے ظاہر ہوا
چھ مہینے کے علی میں حوصلہ شبّیر کا

گر زمین پا ہو نہ پیگا کسی بھی شکل میں
آسمان پڑھنے لگےگا مرثیہ شبیر کا

نوکے نظا سے تلاوت کی بھلا کسنے ظہیر
سارے عالم نے ہے دیکھا موجیزہ شبّیر کا