Gule narjis jo khil utthe gulistan par shabab aaye

اندھیرا ظلمتوں کا چیر دے و آفتاب اے
لگاؤ نارعے حیدر زمیں پر انقلاب اے

کسی زوھرا جبیں کے آنے تییاریاں محسوس ہوتی ہیں
زمیں پر عرش سے چلکر فرشتے بے حساب اے

ہمارا فرض ہے انکو سبھھی ملکر یہ تحفہ دیں
دورود انکو یہاں بھیجیں وہاں انکو گلاب اے

مہک اٹھے زمانہ پھر سے حیدر کی حکومت ہو
گُل نرجس جو کھل اٹھے گلستان پر شباب اے

وضو کر کے عریضہ میں فقط اتنی دعا لکھنا
قضا آنے پھلے ہی مجھے انکا جواب اے

عریضہ بھیجکر مینے دعا یہ رب سے مانگی ہے
کروں یہ نوکری تب بھی کے جب روزے حساب اے

خدا ہم سبکو میثم کی طرح موجز بیان کر دے
زباں گر کاٹ دے ظالم تو محشر تک ثواب اے

اندھیرا مری مرقد میں کبھی بھی ہو یہ نہ ممکن
ادھر کنبے نے منھ موڈا ادھر و بوتراب اے

سرے محشر ظہیر اپنے لیں بس اتنا ہی مانگو
لکھا ہو نام تیرا بھی جو بخشش کی کتاب اے

Han Barven Ali pa jise aitbar hai

خلدے بریں بھی دوستوں اس پر نصار ہے
ہان بارویں علی پا جسے اعتبار ہے

بھیجی ہے منقبت یہ عریضے کے شکل میں
مہدی کے اب ظہور کا بس انتظار ہے

Har dor main dene haq ke liyen – har hal imamat hoti hai

ہر دور میں دین حق کے لئیں ہر حال امامت ہوتی ہے
ظاہر و رہے یا غیاب ہوں ہر حال ہدایت ہوتی ہے

احوال سے سبکے واقف ہیں پھر بھی میری الفت کہتی ہے
تم لکھ کے عریضہ بھیجو تو اس طرح بھی نصرت ہوتی ہے

جو خاص خدا کے بندے ہیں دیکھا ہے زامنے نے انکی
کعبے میں ولادت ہوتی ہے مسجد میں شہدت ہوتی ہے

قرآن اور الے احمد کا آپس میں کچھ ایسا رشتہ ہے
تیروں پا عبادت ہوتی ہے نیزے پا تلاوت ہوتی ہے

زہرہ کے گجر کو چاک کیا مسند پا علی کی بیٹھ گئے
پہلو میں نبی کے جا لیٹو کیا یہ بھی فضیلت ہوتی ہے

کچھ لوگ یہ ہمسے کہتے ہیں ظالم پا تببرا ٹھیک نہیں
حقدار کا حق جب چنتا ہے الله کی لعنت ہوتی ہے

سجدے میں سدا خالق کے ظہیر ماں باپ کو اپنے یاد رکھو
ماں باپ ک قدموں کے نیچے اولاد کی جنّت ہوتی ہے

Sahar Qareeb hai Suraj Nikalne wala hai

سحر قریب ہے سورج نکلنے والا ہے
اندھیرا ظلمو ذلالت کا چاٹنے والا ہے

حسن کے گھر میں جو یہ بارویں کی آمد ہے
یہی بتول کا روزہ بنانے والا ہے

سدا یہ آتی ہے کربو بلا کے جنگل سے
یزیدیت کا جنازہ نکلنے والا ہے

فلک پا آج سجی ہے شعبے براتا ظہیر
زمیں کا آج مقدّر سوارنے والا ہے

قسیمے خلد کے دل کا قرار ہے قاسم

قسیمے خلد کے دل کا قرار ہے قاسم
حسن کے سبز چمن کی بہار ہے قاسم

علی کا پوتا ہے عبّاس کا بھتیجا ہے
ستم سے لڑنے کو یوں بے قرار ہے قاسم

بتاے حق پا شہادت کا زاےقہ رن میں
سواے تیرے یہ کسکا شیار ہے قاسم

مٹا کے ارزقے شامی کے چار بیٹوں کو
ابھی بھی دیکھلو دلدل سوار ہے قاسم

ابھی تو ارزاقے شامی کو بھی دکھاے گا
حسن کا عزم لئے ذولفقار ہے قاسم

وہاں کی ابو ہوا خلد سے بھی اعلیٰ ہے
کے جس زمین پا تیرا مزار ہے قاسم

یہ مجھپا خاص انیت ہے تیری دادی کی
کے مدھ حانوں میرا شمار ہے قاسم

ظہیر تیری دعاؤں میں و کشش ہی نہیں
ہر اک دعا کا فقط اعتبار ہے قاسم

زینب جھانے صبر کی پروردگار ہے

خلدے بریں بھی دوستوں اس پر نصار ہے
زینب تہمارے بابا سے جسکو بھی پیار ہے

زہرہ کی بیٹی شیرے خدا کا وقار ہے
یہ مقسدے حسین پا واحد حصار ہے

بے مسل جسکے بھائی ہوئے ہیں جہاں میں
و حیدری لہجے میں شھ ذولفقار ہے

دربار میں یزید کے عیلان کر دیا
عزت خدا نے دی کیسے ور کون خوار ہے

اسلام کے لبوں پے صدا بار بار ہے
زینب جھانے صبر کی پروردگار ہے

تمنے امامتوں کا تصل سل بچا لیا
زہرہ کا لال اک ابھی بار قرار ہے

بھیجی ہے منقبت یہ عریضے کے شکل میں
پردے سے ابھی اے گیں و انتظار ہے

ہر منقبت پا خلد میں گھر پاؤگے ظہیر
دنیا میں رہ کے کتنا حسیں کاروبار ہے

یا محمّد مصطفیٰ یا محمّد مصطفیٰ

یا محمّد مصطفیٰ یا محمّد مصطفیٰ
عززتے کونو مکان کیجیے مجھکو اتا

ہمدے خدا کا پاس بھی ہو
مدھےعلی کا ساتھ بھی ہو
لفظوں کی خیرات و دو ناتے نبی ہو جائے ادا
یا محمّد مصطفیٰ یا محمّد مصطفیٰ

بارہ برس کو پوھچی رسالت
آے جبریلے امین
بولے ہے مشتاق زیارت آج رب یٰسین کا
یا محمّد مصطفیٰ یا محمّد مصطفیٰ

حیدر کے لہجے میں خدا نے
احمد سے جو باتیں کیں
شیخ جی کو کیسے ہضم ہو وقیا معراج کا
یا محمّد مصطفیٰ یا محمّد مصطفیٰ

ان کی سمجھ میں کیسے آے
خیبر سے جو بھاگ گئے
پردے سے ظاہر جو ہوا ہاتھ و حیدر کا تھا
یا محمّد مصطفیٰ یا محمّد مصطفیٰ

ناتے نبی لکھنے لیں
الفتے حیدر چاہیے
ورنہ تو بس یہ ہی کہوگے پیارا نبی ہم جیسا تھا
یا محمّد مصطفیٰ یا محمّد مصطفیٰ

صدقے میں زہرہ کے خدا نے
علمو عمل کے میندان میں
ہمکو جو نعمت ہے بقشی کیسے کریں ہم شکر ادا
یا محمّد مصطفیٰ یا محمّد مصطفیٰ

جو لوگ زکرے شھ مرتضیٰ نہیں کرتے

جو لوگ زکرے شھ مرتضیٰ نہیں کرتے
و لوگ اجرے رسالت ادا نہیں کرتے

و لوگ کیسے محمّد کو منھ دکھا ینگے
جو لوگ زکرے شھ کربلا نہیں کرتے

فرازے دار سے میثم کی یہ سادہ آی
علی کے چاہنے والے مرا نہیں کرتے

چڑھاؤ سولی پا یا قید میں رکھو ہمکو
نمازے عشقے ولایت قضا نہیں کرتے

یہ مسکرا کے بتایا ہے رن میں اصغر نے
کے ہم یزید سے ہرگز ڈرا نہیں کرتے

علی کے بگز میں اب تو یہ حال ہے انکا
نماز میں بھی یہ سیدھے رہا نہیں کرتے

شفاعتے خالکے کل کا چمکتا جوہر دیکھ

شفاعتے خالکے کل کا چمکتا جوہر دیکھ
تقی میں ہسنے خوش اخلاقئے پیامبر دیکھ

ہیں خردسالی میں جو علم کا سمندر دیکھ
سوارتے ہیں و اسلام کا مقدّر دیکھ

خدا کا تجھکو سمجھنا اگر ہے جودو کرم
تقی جوّاد ہے جودو کرم کا مظہر دیکھ

علی کا علم محمّد کا نام ہسنے حسن
حسین کے ہیں شجر یہ نوری پیکر دیکھ

تقی کا ذکر ہے یعنی بصیرتوں کی بہار
خدا کا فضل ہے یہ محفلے منوور دیکھ

تقی کی دیکھ کر موجز نمایی اب تک
جہاں سارا ہے حیرانو ششدر دیکھ

ہزار یحییٰ مامومن غرق ہو جایں
تقی ہے المے لدننی کا وو سمندر دیکھ


शफ़ाअते ख़ालिक़ का चमकता जोहर देख
ताकि मैं हुस्ने खुश अख़लाक़े पयम्बर देख

हैं खुरदसाली मैं जो इल्म का समंदर देख
सवारते हैं वो इस्लाम का मुक़द्दर देख

खुदा का तुझको समझना अगर है जूडो करम
ताकि जव्वाद है जोड़ो करम का मज़हर देख

अली का इल्म मोहम्मद का नाम हुस्ने हसन
हुसैन के हैं शजर ये नूरी पैकर देख

ताकि का ज़िक्र है यानि बसीरतों की बहार
खुदा का फ़ज़ल है ये महफिले मुनव्वर देख

ताकि की देख कर मोजिज़ नुमायी अब तक
जहाँ सारा है हैरानो शशदर देख

हज़ार याहया मॉमून ग़र्क़ हो जाएँ
ताकि हैं इल्मे लदुन्नी का वो मज़हर देख

क़यामत का हुआ पैरव जो तो यहाँ मेहदी
ताकि जव्वाद हैं तेरे शफ़ाये महशर देख