Neha charag jalana hai aagahi ke liyen

سجایا ہے سارا جہاں گیارویں ولی کے لیں
فلک سے آ گئے تارے بھی روشنی کے لیں

دعایں مانگو کے دنیا میں اسکری آے
خلا ہے رحمتے باری کا در سبھی کے لیں

تمام عزتیں اسکا طواف کیوں نا کریں
لبوں کو کھولیگا جو مدح اسکری کے لیں

ہماری نسلوں پا احسان کر دیا مولا
نہا چراغ جلایا ہے آگاہی کے لیں

نہا تو رکھکھا پہچان بھی کرائی ہے
یہ مرحلہ نہیں آسان ہر کسی کے لیں

زمیں سجی ہے زمانہ ہے انتظار ظہور
درود بھیجو سبھی مل کے آخری کے لیں

میرے امام یہ کھ دیں براے مدح سنا
ظہیر لفظ سجاے ہیں دل کشی کے لیں

Fikr main jiski inqlaab nahi

فکر میں جس کی انقلاب نہیں
ہان و ہی شخص کامیاب نہیں

معالے دنیا کی فکر غالب ہے
آخرت کا کوئی حساب نہیں

آکے محفل میں جو بھی بیٹھ گیا
اس سے پھر وقت کا حساب نہیں

خون نہ حق بہا گیا ہے یزید
آل کو اسکی ارتکاب نہیں

ایک بیٹے نے خواب میں دیکھا
میرے والد پا کچھ عذاب نہیں

جس کو آییوب نے سلام کیا
صبر میں شاہ کا ہم رکاب نہیں

یککو تنہا کھڈے ہیں رن میں حسین
پھر بھی چہرے پا اضطراب نہیں

جسکو پینے سے حر کو ہوش آیا
عشق کا جام تھا شراب نہیں

لے کے دوزق سے خلد آ ہی گیی
حر کی قسمت کا بھی جواب نہیں

غاصب حققے فاطمہ کے لیں
سبض گمبد میں بھی ثواب نہیں

پروے رہبرے امام بنو
اس سے پیارا ظہیر خاب نہیں

Be khata jurm ka iqraar nahi kar sakta

بے خطا جرم کا اقرار نہیں کر سکتا
بد نسب مدحت سرکار نہیں کر سکتا

لاکھ کہتا رہے اب اے غیبت سے امام
بے نمازی کبھی دیدار نہیں کر سکتا

حوصلہ میثم تممار سے جو لے نا سکے
مدھے حیدر و سرے دار نہیں کر سکتا

ایک حیوان کی رطوبت ہی تیری قسمت ہے
تو وفا ان سے بھی غدّار نہیں کر سکتا

فرش مجلس پا جو آتا ہے پرایا بھی ظہیر
شاہ کے قاتل سے کبھی پیار نہیں کر سکتا

Noha Salam Farmandeh

Ya Maulana Ya Sahibuz Zaman
Al Gaus Al Gaus Al Gaus
Adrikni Adrikni Adrikni

Aye Maula – Imam-e-Zamanam
Aye Aaqa – Imam-e-Zamanam
Aye Pursedar – Imam-e-Zamanam
Aye Sogavar…
Aqa Azaye Husain Humne Bichayi hai…
Purse ko Dadi Teri Tashreef Layi hain…
Khoon rote aye matamdar….

Salam Farmande – Farmande
Aye Khon roone wale
Salam Farmande – Farmande
Tumko karbala ka hum wasta deta hain…
Salam Farmande – Farmande

Zahra ke Marqad ko… Moshin ke purse ko…
Kanon ke Bunon ko… Zainab ke parde ko…
Ghazi ke Shano ko… Qasim ke sehere ko…
Aazane Akbar ko… Sughra ke name ko…
Samsin ke purse ko maula mere…
Hazir Azadar hain……

Salam Farmande – Farmande
Aye Khon roone wale
Salam Farmande – Farmande
Tumko karbala ka hum wasta deta hain…
Salam Farmande – Farmande

Hum nanne par zakir hain…
Maula Hum Apni Fida Jaan karenge..
Hum nanne par zakir hain…
Guzri jo pyason pa ailan kareneg..
Hum nanne par zakir hain…
Asghar ke pani ka samaan karenge..
Hum nanne par zakir hain…
Ghar apne hum bibi ko mehmaan karenge..
Hum nanne par zakir hain…
Zalim ko hiladenege maatam is aan karenge……

Salam Farmande – Farmande
Aye Khon roone wale
Salam Farmande – Farmande
Tumko karbala ka hum wasta deta hain…
Salam Farmande – Farmande

Auno Akbar main banun.. Misle Qasim mian banu…
Meri Ma ne hai kaha.. tra khadim main banun…
Tere qadmon pe sada.. sar jhuka kar main rahun…
Tera naukar main banu.. ik sipahi main banun…
Tere lashkar main rahun.. Aur hukoomat main rahun…
Naare dozaq se bachun.. Noore rehmat main rahun…
Teri nusrat ke liyen jaan hateli pa rakhun…
Maqsade Karbo bala main sada yaad rakhun……

Salam Farmande – Farmande
Aye Khon roone wale
Salam Farmande – Farmande
Tumko karbala ka hum wasta deta hain…
Salam Farmande – Farmande


یا مولانا یا سہیبض زمان
ال غوث ال غوث ال غوث
ادرکنی ادرکنی ادرکنی

اے مولا امام زمنم
اے آقا امام زمنم
اے پرسیدار امام زمنم
اے سوگوار
آقا عزا حسین ہمنے بچھائی ہے
پرسے کو دادی تیری تشریف لآیی ہے
خوں روتے اے ماتم دار

سلام فرمندے – فرمندے
اے خوں رونے والے
سلام فرمندے – فرمندے
تمکو کربلا کا ہم واسطہ دیتے ہیں
سلام فرمندے – فرمندے

زہرا کی مرقد کو موحسن کے پرسے کو
کانوں کے بوندوں کو زینب کے پردے کو
غازی کے شانوں کو قسم کے سہرے کو
آزانے اکبر کو صغرا کے نامے کو
کم سن کے پرسے کو مولا میرے
حاضر عزادار ہیں

سلام فرمندے – فرمندے
اے خوں رونے والے
سلام فرمندے – فرمندے
تمکو کربلا کا ہم واسطہ دیتے ہیں
سلام فرمندے – فرمندے

ہم نننے ہیں مگر ذاکر ہیں
مولا ہم اپنی فدا جان کرینگے
ہم نننے ہیں مگر ذاکر ہیں
جو گزری ہے پیسوں پر اعلان کرینگے
ہم نننے ہیں مگر ذاکر ہیں
اصغر کے لئیں پانی کا سامان کرینگے
ہم نننے ہیں مگر ذاکر ہیں
گھر اپنے ہم بی بی کو مہمان کرینگے
ہم نننے ہیں مگر ذاکر ہیں
ظالم کو ہلا دینگیں ماتم اس آن کرینگے

سلام فرمندے – فرمندے
اے خوں رونے والے
سلام فرمندے – فرمندے
تمکو کربلا کا ہم واسطہ دیتے ہیں
سلام فرمندے – فرمندے

اونو اکبر میں بنوں مسلے قاسم میں بنوں
میری ماں نے ہے کہا تیرا خادم میں بنوں
تیرے قدموں میں صدا سر جھکا کر میں رہوں
تیرا نوکر میں بنوں ایک سپاہی میں بنوں
تیرے لشکر میں رہوں اور حکومت میں رہوں
نار دوزاق سے بچوں نور رحمت میں رہوں
تیری نصرت کے لیں جاں ہتیلی پا رکھوں
مقسدے کربو بلا میں صدا یاد رکھوں

سلام فرمندے – فرمندے
اے خوں رونے والے
سلام فرمندے – فرمندے
تمکو کربلا کا ہم واسطہ دیتے ہیں
سلام فرمندے – فرمندے

Ghamon par Gham Uthaye Ja rahe hain…

غموں پر غم اٹھاے جا رہے ہیں
ہمیں ظالم ستاے جا رہے ہیں

بہت بے چین ہے نننی سی بچچی
تماچے کیوں لگاے جا رہے ہیں

کہاں ہو اے میرے عممو بچاؤ
پھوپی کو بھی رلاے جا رہے ہیں

لگی ہے آگ دامن میں بھی میرے
سبھی خیمیں جلاے جا رہے ہیں

میرے کانو سے خون بہنے لگا ہے
میرے گوہر اتارے جا رہے ہیں

مجھے اس اونٹ پر باندھا گیا ہے
جسے ظالم چلاے جا رہے ہیں

سکینہ آج بھی پیاسی ہے عممو
شخی پانی بہاے جا رہے ہیں

ظہیر غمزدہ کیسے لکھوگے
ستم جو ہم پا ڈھاے جا رہے ہیں

Usko Salam Dash main jo sar katayega

اسکو سلام دشت میں جو گھر لٹاے گا
جسکا صغیر پیاس میں بھی مسکراے گا

جو بھی عزا شاہ میں دو آنسو بہاے گا
ان آنسوں کی حشر میں لذّت اٹھاے گا

دل کومرے خوشی ہے فقط اس خیال سے
یہ چاند محرّم کا ہمیں پھر رلاے گا

صحرا کوجسکی زات مواللہ بناے گی
و لاڈلا نبی کا اسی دو کو آے گا

لشکر اگر چے گھیر کے لیگا کربلا
سبط رسول اسکو بھی پانی پلاے گا

صیراب جو کریگا سپاہ یزید کو
صد حیف ہے کے پانی کا قطرہ نہ پاے گا

دم ہو کسی میں پار کرے تو جری کا خط
اس پار آ گیا تو پھر اس پار جاے گا

روبو جلال حیدر کررار جس میں ہوں
کیوں کر بھلا ترائی سے خیمیں اٹھاے گا

یوں اٹھ گئے فرات سے خیمیں شھ دیں کے
عبّاس اب ترائی پہ شانے کٹاے گا

واپس حسین خیمیں کس طرح لینگے
پیاسا صغیر ہاتھوں پا جب تیر کھاے گا

پکڑے کمر کو فاطمہ مرقد سے آینگی
ہادی ہمارا خون کے آنسو بہاے گا

ساری مصیبتیں کہاں لکھ پاؤگے ظہیر
ظلم ستم کی حد کو قلم لکھ نہ پاے گا

Ye Parcham-e-Abbas Sada Ooncha Rahe Ga

یہ پرچم عبّاس صدا اونچا رہے گا
کربوبالا کی داستان دوہراتا رہے گا

یہ پرچم عبّاس ہے اسلام کا پرچم
اسلام کا پرچم ہے تو ایمان کا پرچم
ہر جنگ میں انچا رہا اس شان کا پرچم
ظالم کا دل ہمیشہ یہ دہلاتا رہے گا
یہ پرچم عبّاس صدا اونچا رہے گا

اس پرچم عبّاس کو احمد نے سجایا
ہر جنگ میں حیدرنے وقار اسکا بڑھایا
آیا جو وقط صلح تو شبّر نے اٹھایا
ہر دور میں بے خوف یہ لہراتا رہے گا
یہ پرچم عبّاس صدا اونچا رہے گا

جب یہ اٹھیگا عرش سلامی کو جھکیگا
یوں داستانے ظلم یہ دنیا سے کہیگا
سن کر ستم جو اشکوں کا سیلاب بہیگا
اوقات کیا ہے ظلم کی دکھلاتا رہے گا
یہ پرچم عبّاس صدا اونچا رہے گا

کعبے میں اس پا ظلم کے بادل جو چھا گے
لیکر حسین اسکو بیاباں میں آ گئے
عبّاس کو دیا و ترائی تک آ گئے
تا حشر اب فرات پا لہراتا رہےگا
یہ پرچم عبّاس صدا اونچا رہے گا

جب اسکو حر نے دیکھا پشیمان ہو گیا
ناری جو تھا وصاحبے ایمان ہو گیا
پھر کیا تھا ایک جنگ کا سامان ہو گیا
کردار مسلے حر یوں ہی مہکا تا رہے گا
یہ پرچم عبّاس صدا اونچا رہے گا

اسکا پھریرا فاطمہ زہرا کی دعا ہے
پنجہ علم میں آج بھی غازی کا لگا ہے
مشکے سکینہ ساتھ لئے گھوم رہا ہے
پیاسوں کا ترجمان بنا بڑھتا رہے گا
یہ پرچم عبّاس صدا اونچا رہے گا

دولت لوٹی ہے فاطمہ زہرا کی سامنے
اجھڈی ہے گود بانوے مضطر کی سامنے
چادر لٹی ہے زینب مضطر کی سامنے
بے پردہ گر جو دیکھے گا تو روتا رہے گا
یہ پرچم عبّاس صدا اونچا رہے گا

تراشکوں سے ظہیر کے ہیں نین نوازش
سایے میں اس علم کرو بین نوازش
صد حیف لٹا فاطمہ کا چین نوازش
نوحہ میرا یہ حشر میں سرمایا رہے گا
یہ پرچم عبّاس صدا اونچا رہے گا


یہ پرچم عبّاس سدا انچا رہے گا
ثر پر یہ عزاداروں کے لہراتا رہے گا

یہ پرچم عبّاس ہے اسلام کا پرچم
اوقات کیا ہے ظلم کی دکھلاتا رہے گا

اس پرچم عبّاس کو احمد نے سجایا
تا حشر علقمہ پا یہ پھراتا رہے گا

جب یہ اٹھیگا عرش سلامی کو جھکے گا
ظالم کا دل ہمیشہ یہ دہلاتا رہے گا

لے کر حسین اسکو بیا باں میں اے تھے
محور ہے اب وفا کا یوں ہی سجتا رہے گا

مشکے سکینہ ساتھ لئے گھوم رہا ہے
پیاسوں کا ترجمان بنا بڑھتا رہے گا

ہمّت نہیں کسی میں ذرا ہاتھ لگا لے
ظالم کا دل ہمیشہ یہ دہلاتا رہے گا

بدرو احد میں خیبر و خندک میں تھا یہ ہی
ظلم ستم سے جنگ سدا کرتا رہے گا

چادر لٹی ہے زینب مضطر کی سامنے
بے پردا گر جو دیکھےگا تو روتا رہے گا