Inhen Husain bhi Apna Imam khete hain

بصد خلوص بصد احترام کہتے ہیں
حسن کو بادشاہ خاصو عام کہتے ہیں

تمام عظمت انکا طواف کرتی ہیں
انہیں حسین بھی اپنا امام کہتے ہیں


غدیر خم کا سبھی سے پیام کہتے ہیں
نبی کے بعد علی کو امام کہتے ہیں

علی کے بعد حسن کا مقام آتا ہے
انہیں حسین بھی اپنا امام کہتے ہیں

Hasan ka Jashn hai ehle wila main

جو لتفے خاص حمدے کبریا میں
ہے و ہی لتفو کرم انکی سنا میں

مہک جنّت کی پھیلی ہے فضا میں
حسن کا جشن ہے اہل ولا میں

میاں صدقہ بتیگا پنجتن کا
حسن کا جشن ہے اہل ولا میں

نبی کو مل گیی کوثر کی دولت
حسن کا جشن ہے اہل ولا میں

در زہرا پا یہ جبریل بولے
ہے جلوہ مصطفیٰ کا مجتبیٰ میں

ردا میں نور کوثر ضوفشاں ہے
نبی کے دونو بیٹے ہیں کیسا میں

شرایط پر حسن کی صلح ہونا
ستم کا سر ہے یہ تشتے تلا میں

نہ کرنا جنگ حسن کا صلح کرنا
پتا چل جائے گا کربوبلا میں

ہمیں جنّت ملیگی لازمی ہے
تردّد ہی نہیں انکی عطا میں

Hasan ka Husn Tasveer-e-Nabi hai

جو توقیر حسن و توقیر نبی ہے
حسن کا حسن تصویر نبی ہے

نا کرنا جنگ یہ بتلا رہا ہے
حسن کا خلق شمشیر نبی ہے

و کرتے جنگ دنیا دیکھ لیتی
حسن کے پاس تدبیرنبی ہے

حسن نے صلح کر کے یہ بتایا
و ہم ہیں جنسے تنویر نبی ہے

نہ دو کاغذ قلم یہ ہی چرچا رہیگا
یہ صلح نامہ تحریر نبی ہے

Bazu-e-Haider ki taqat khama-e-Shabbar main hai

ہے خدا کا نور یکساں تو نبی کے گھر میں ہے
یہ علی و فاطمہ شببر میں شبّر میں ہے

دوسرا مہرے امامت بیت پیغمبر میں ہے
ماہے رمضاں کی سعادت آمدے شبّر میں ہے

آمد شبّر سے دیکھو رحمتوں ہے نوزول
حیدری مسجد بھی جیسے نور کے محور میں ہے

انکے دستر خان سے رونق گھروں میں چھائی ہے
یانی میلادے حسن آج تو ہر گھرمیں ہے

بھائی کی نصرت کا جذبہ عزم استقلال بھی
ہر ہنر جنگے حسن کا قسم مضطر میں ہے

شیخ جی کیسے کہیں ابتر رسول الله کو
نسلے احمد کا پتا تو سورہ کوثر میں ہے

اپنا بستر لکے تم چایے جہاں پھرتے پھرو
خلد میں جانے کا راستہ الفتے حیدر میں ہے

سلہے شبر ہے کے یہ سلہے رسول الله ہے
کھلبلی چھائی ہوئی کیوں ظلم کے دفتر میں ہے

ظلم سے سمبھلیگا کیسے بارے صلح مجتبیٰ
بازو حیدر کی طاقت خامہ شبّر میں ہے

بس لگا کر دیکھنا نارا ایک حیدر ظہیر
خود پتا چل جاے گا کون کس لشکر میں ہے

Sare Jahan ko ko aaj zaroorat Hasan ki hai

مہکی ہوئی فضا جو نبی کے چمن کی ہے
آمد علی کے گھر میں کسی گلبدن کی ہے

اک ماہ میں ہے دونو کی آمد کا اہتمام
قران آے گا ابھی آمد حسن کی ہے

کاغذ قلم تو تمنے نبی کو دیا نہیں
آل نبی سے دشمنی کس سوئے ظن کی ہے

صلح حسن کو دیکھ کے حیران ظلم ہے
ہر شرط مجتبیٰ کی رسول ضمن کی ہے

دنیا سے خلفشار مٹانے کے واسطے
سارے جہاں کو آج ضرورت حسن کی ہے

اس واسطے بھی دین کے دشمن ہیں خوف میں
پردے سے رہنمائی امام ضمن کی ہے

صلح حسن ہو یا کے ہو سلہے نبی ظہیر
تحریر ایک جیسی برابر وزن کی ہے