Jashn-e-Baqir Mana Liya Jaye

ذہن دل کو سجا لیا جائے
جشن باقر منا لیا جائے

گھر میں محفل سجا کے باقر کی
امبیا کو بلا لیا جائے

گو کے کمسن تھے بولے بابا سے
تختے شامی ہلا دیا جائے

آپ ہی اسکا فیصلہ کر لیں
خلد میں حر یا حرملہ جائے

ایک مسکان سے سرے میداں
قسرے بیعت گرا دیا جائے

او چل کر خرید لیں جنّت
شاہ پا آنسو بہا لیا جائے

جیسے چاهتا ہے وقت کا مہدی
بس اسی طور سے جیا جائے

دل سے اطراف ماصیت کر کے
خود کو بھی حر بنا لیا جائے

عرش تک جو سنائی دینے لگے
ایسا نارا لگا لیا جائے

مدح باقر ظہیر کرنی ہے
لفظ ہر ایک سجا لیا جائے

Qalb-e-Paighambar pa nazil surah e kausar hua

متقی و بن گیا کچھ اور اونچا سر ہوا
مرتبہ اسکو ملا جو پروے رہبر ہوا

تینوں آیت لے کے آیئں آمد زہرا کا نور
قلب پیغمبر پہ نازل سورہ کوثر ہوا

آج بھی قیام ہے زہرا کا پسر مہدی دین
کھ رہا تھا جو نبی کو خود ہی و ابتر ہوا

ڈونڈھے سے ملتا نہیں ہے نام کا کوئی یزید
اور حسین ابنے علی کا تذکرہ گھر گھر ہوا

عاشق زہرہ کی خاطرتھا یہ سارا اہتمام
ورنہ پھر صحرا میں کیوں یہ انتظار حر ہوا

لے کے نیزا جس گھڈی پہچا و زہرا کا پسر
دیکھ کر آتا جری کو نہر پر محشر ہوا

کھلبلی تھی اس قدر کے کچھ نہ آتا تھا نظر
کیسا گھوڈا کیسا نیزہ سب ادھر کا ادھر ہوا

ایک نیزے نے ہے بدلہ جانے کتنو کا نصیب
کوئی ریسر بن گیا تو کوئی چھو منتر ہوا

منقبت بنتے نبی کی جب بھی لکھتا ہے ظہیر
لفظ سارے کھل اٹھے ہر شیر ہی گوہر ہوا