Han Barven Ali pa jise aitbar hai

خلدے بریں بھی دوستوں اس پر نصار ہے
ہان بارویں علی پا جسے اعتبار ہے

بھیجی ہے منقبت یہ عریضے کے شکل میں
مہدی کے اب ظہور کا بس انتظار ہے

Har dor main dene haq ke liyen – har hal imamat hoti hai

ہر دور میں دین حق کے لئیں ہر حال امامت ہوتی ہے
ظاہر و رہے یا غیاب ہوں ہر حال ہدایت ہوتی ہے

احوال سے سبکے واقف ہیں پھر بھی میری الفت کہتی ہے
تم لکھ کے عریضہ بھیجو تو اس طرح قرابت ہوتی ہے

جو خاص خدا کے بندے ہیں دیکھا ہے زامنے نے انکی
کعبے میں ولادت ہوتی ہے مسجد میں شہادت ہوتی ہے

قرآن اور الے احمد کا آپس میں کچھ ایسا رشتہ ہے
تیروں پا عبادت ہوتی ہے نیزے پا تلاوت ہوتی ہے

زہرہ کے گجر کو چاک کیا مسند پا علی کی بیٹھ گئے
پہلو میں نبی کے جا لیٹو کیا یہ بھی ندامت ہوتی ہے

کچھ لوگ یہ ہمسے کہتے ہیں تینوں پا تببرا ٹھیک نہیں
حقدار کا حق جب چھنتا ہے پستی کی علامت ہوتی ہے

سجدے میں صدا خالق کے ظہیر تم یاد شھ دیں کو رکھنا
مقبول عبادت بندوں کی سرور کی بدولت ہوتی ہے

Sahar Qareeb hai Suraj Nikalne wala hai

سحر قریب ہے سورج نکلنے والا ہے
اندھیرا ظلمو ذلالت کا مٹنے والا ہے

ابھی اٹھانا ہے رخ سے نقاب کو جسنے
و ہی بتول کا روزہ بنانے والا ہے

سدا یہ آتی ہے کربو بلا کے جنگل سے
یزیدیت کا جنازہ نکلنے والا ہے

فلک پا آج سجی ہے شعبے براتا ظہیر
زمیں کا آج مقدّر سوارنے والا ہے

قسیمے خلد کے دل کا قرار ہے قاسم

قسیمے خلد کے دل کا قرار ہے قاسم
حسن کے سبز چمن کی بہار ہے قاسم

علی کا پوتا ہے عبّاس کا بھتیجا ہے
ستم سے لڑنے کو یوں بے قرار ہے قاسم

بتاے حق پا شہادت کا زاےقہ رن میں
سواے تیرے یہ کسکا شیار ہے قاسم

مٹا کے ارزقے شامی کے چار بیٹوں کو
ابھی بھی دیکھلو دلدل سوار ہے قاسم

ابھی تو ارزاقے شامی کو بھی دکھاے گا
حسن کا عزم لئے ذولفقار ہے قاسم

وہاں کی ابو ہوا خلد سے بھی اعلیٰ ہے
کے جس زمین پا تیرا مزار ہے قاسم

یہ مجھپا خاص انیت ہے تیری دادی کی
کے مدھ حانوں میرا شمار ہے قاسم

ظہیر تیری دعاؤں میں و کشش ہی نہیں
ہر اک دعا کا فقط اعتبار ہے قاسم

زینب جھانے صبر کی پروردگار ہے

خلدے بریں بھی دوستوں اس پر نصار ہے
زینب تہمارے بابا سے جسکو بھی پیار ہے

زہرہ کی بیٹی شیرے خدا کا وقار ہے
یہ مقسدے حسین پا واحد حصار ہے

بے مسل جسکے بھائی ہوئے ہیں جہاں میں
و حیدری لہجے میں شھ ذولفقار ہے

دربار میں یزید کے عیلان کر دیا
عزت خدا نے دی کیسے ور کون خوار ہے

اسلام کے لبوں پے صدا بار بار ہے
زینب جھانے صبر کی پروردگار ہے

تمنے امامتوں کا تصل سل بچا لیا
زہرہ کا لال اک ابھی بار قرار ہے

بھیجی ہے منقبت یہ عریضے کے شکل میں
پردے سے ابھی اے گیں و انتظار ہے

ہر منقبت پا خلد میں گھر پاؤگے ظہیر
دنیا میں رہ کے کتنا حسیں کاروبار ہے

یا محمّد مصطفیٰ یا محمّد مصطفیٰ

یا محمّد مصطفیٰ یا محمّد مصطفیٰ
عززتے کونو مکان کیجیے مجھکو اتا

ہمدے خدا کا پاس بھی ہو
مدھےعلی کا ساتھ بھی ہو
لفظوں کی خیرات و دو ناتے نبی ہو جائے ادا
یا محمّد مصطفیٰ یا محمّد مصطفیٰ

بارہ برس کو پوھچی رسالت
آے جبریلے امین
بولے ہے مشتاق زیارت آج رب یٰسین کا
یا محمّد مصطفیٰ یا محمّد مصطفیٰ

حیدر کے لہجے میں خدا نے
احمد سے جو باتیں کیں
شیخ جی کو کیسے ہضم ہو وقیا معراج کا
یا محمّد مصطفیٰ یا محمّد مصطفیٰ

ان کی سمجھ میں کیسے آے
خیبر سے جو بھاگ گئے
پردے سے ظاہر جو ہوا ہاتھ و حیدر کا تھا
یا محمّد مصطفیٰ یا محمّد مصطفیٰ

ناتے نبی لکھنے لیں
الفتے حیدر چاہیے
ورنہ تو بس یہ ہی کہوگے پیارا نبی ہم جیسا تھا
یا محمّد مصطفیٰ یا محمّد مصطفیٰ

صدقے میں زہرہ کے خدا نے
علمو عمل کے میندان میں
ہمکو جو نعمت ہے بقشی کیسے کریں ہم شکر ادا
یا محمّد مصطفیٰ یا محمّد مصطفیٰ

جو لوگ زکرے شھ مرتضیٰ نہیں کرتے

جو لوگ زکرے شھ مرتضیٰ نہیں کرتے
و لوگ اجرے رسالت ادا نہیں کرتے

و لوگ کیسے محمّد کو منھ دکھا ینگے
جو لوگ زکرے شھ کربلا نہیں کرتے

فرازے دار سے میثم کی یہ سادہ آی
علی کے چاہنے والے مرا نہیں کرتے

چڑھاؤ سولی پا یا قید میں رکھو ہمکو
نمازے عشقے ولایت قضا نہیں کرتے

یہ مسکرا کے بتایا ہے رن میں اصغر نے
کے ہم یزید سے ہرگز ڈرا نہیں کرتے

علی کے بگز میں اب تو یہ حال ہے انکا
نماز میں بھی یہ سیدھے رہا نہیں کرتے

شفاعتے خالکے کل کا چمکتا جوہر دیکھ

شفاعتے خالکے کل کا چمکتا جوہر دیکھ
تقی میں ہسنے خوش اخلاقئے پیامبر دیکھ

ہیں خردسالی میں جو علم کا سمندر دیکھ
سوارتے ہیں و اسلام کا مقدّر دیکھ

خدا کا تجھکو سمجھنا اگر ہے جودو کرم
تقی جوّاد ہے جودو کرم کا مظہر دیکھ

علی کا علم محمّد کا نام ہسنے حسن
حسین کے ہیں شجر یہ نوری پیکر دیکھ

تقی کا ذکر ہے یعنی بصیرتوں کی بہار
خدا کا فضل ہے یہ محفلے منوور دیکھ

تقی کی دیکھ کر موجز نمایی اب تک
جہاں سارا ہے حیرانو ششدر دیکھ

ہزار یحییٰ مامومن غرق ہو جایں
تقی ہے المے لدننی کا وو سمندر دیکھ


शफ़ाअते ख़ालिक़ का चमकता जोहर देख
ताकि मैं हुस्ने खुश अख़लाक़े पयम्बर देख

हैं खुरदसाली मैं जो इल्म का समंदर देख
सवारते हैं वो इस्लाम का मुक़द्दर देख

खुदा का तुझको समझना अगर है जूडो करम
ताकि जव्वाद है जोड़ो करम का मज़हर देख

अली का इल्म मोहम्मद का नाम हुस्ने हसन
हुसैन के हैं शजर ये नूरी पैकर देख

ताकि का ज़िक्र है यानि बसीरतों की बहार
खुदा का फ़ज़ल है ये महफिले मुनव्वर देख

ताकि की देख कर मोजिज़ नुमायी अब तक
जहाँ सारा है हैरानो शशदर देख

हज़ार याहया मॉमून ग़र्क़ हो जाएँ
ताकि हैं इल्मे लदुन्नी का वो मज़हर देख

क़यामत का हुआ पैरव जो तो यहाँ मेहदी
ताकि जव्वाद हैं तेरे शफ़ाये महशर देख

حببے علی کی دستوں نعمت ملی مجھے

حببے علی کی دستوں نعمت ملی مجھے
اس واسطے جہاں میں شوھرت ملی مجھے

الفت ملی ہے پیار ملا انکے ساے میں
رہ کر وطن سے دور بھی عزت ملی مجھے

ڈرنے لگیں ہیں مجھے زمانے کی گردشیں
نادے علی کی جبسے ہے دولت ملی مجھے

یہ مسکرا کے کعبے کی دور نے کہا
آے علی تو اور فضیلت ملی مجھے

آکر علی نے کعبہ کو کعبہ بنا دیا
بولا یہ کبرا کے عمارت ملی مجھے

یہ انکا کرم ہے کے زبان کھول رہا ہوں
میرے قلم سے ایسی عبارت ملی مجھے

کیوں کر بھلا نہ شکرے خدا میں کروں ظہیر
مدھو سنا سے انکی جو عزت ملی مجھے


हुब्बे अली की दोस्तों नेमत मिली मुझे
इस वास्ते जहान मैं शोहरत मिली मुझे

उल्फत मिली है प्यार मिला इनके साये मैं
रह कर वतन से दूर भी इज़्ज़त मिली मुझे

डरने लगीं हैं मुझसे ज़माने की गर्दिशें
नादे अली की जबसे है दौलत मिली मुझे

ये मुस्कुरा के काबे की दीवार ने कहा
आये अली तो और फ़ज़ीलत मिली मुझे

आकर अली ने काबे को काबा बना दिया
बोला ये किब्रिया के ईमारत मिली मुझे

ये इनका करम है जो ज़बान खो रहा हूँ
मेरे क़लम से ऐसी इबारत मिली मुझे

क्यों कर भला न शुक्र खुदा मैं करूँ ज़ुहैर
मदहो सना से इनकी वो इज़्ज़त मिली मुझे

مالکے کونو مکاں ہیں فاطمہ

مالکے کونو مکاں ہیں فاطمہ
احمدے مرسل کی جاں ہیں فاطمہ

کس طرح اوصاف انکے ہو بیان
مالکے جنّت کی ماں ہیں فاطمہ


جب درے بنتے نبی سے سلسلے ہو جائے گیں
خلد میں جانے کے چودہ راستے ہو جائے گیں

خواب میں بھی عظمتوں نے یہ کبھی سوچا نہ تھا
فاطمہ کو دیکھ کر آقا کھرے ہو جائے گیں


الله الله منزلت اور یہ مقامے فاطمہ
خد رسولاللہ کرتے اهترامے فاطمہ

سبسے بڑھ کر ہے جو زیور و حیا اور شرم ہے
عورتوں کے واسطے ہے یہ پیامے فاطمہ

اک دن خود اک دن فزا سے لیتی ہیں یہ کام
تھا حقو انصاف پر قیام نظامے فاطمہ

انکی زاتے پاک کی تسبیح دل پڑھنے لگا
آ گیا جب بھی زبان پر میری نامے فاطمہ

کربلا کے واسطے پلے تھے زینب اور حسین
دین بچانے ک لئے تھا انتظامے فاطمہ

فاطمہ کی منقبت ہی صرف مت کہنا ظہیر
دل سے رہنا عمر بھر تو غلامے فاطمہ