Jis dam jahan main Noor-e-Taqi jalwagar hua

ظلمت کے اندھیروں کا اثر بے اثر ہوا
جس دم جہاں میں نور تقی جلواگر ہوا

تقوے کا نور ان سے ہی پھیلا جہاں میں
شاداب دو جہاں میں رضا کا شجر ہوا

الفت تقی سے جو بھی رکھے شاد بعد ہے
منکر تقی کا کوئی بھی ہو در با در ہوا

دسویں رجب کو آے ہیں مولا تقی ظہیر
دانشوروں میں جشن تقی رات بھر ہوا

Naam e Abbas Chamakta hai Alamdari main

نام عبّاس چمکتا ہے علمداری میں
شیر حیدر کا ہے سردار وفاداری میں

ھو با ھو انکو بنایا ہے خدا نے حیدر
عزم ہمّت میں شجاعت میں فداکاری میں

جسنے نو لاکھ کے لشکر کو نہ لشکر سمجھا
کوئی تاریخ نے دیکھا بھی ہے فن کاری میں

ایک خط خیچا ہے لشکر پا ہے ہیبت تاری
جایں اس پار کے اس پار ہیں دشواری میں

جسکے بس ایک اشارے سے رکا ہو لشکر
نہر سے خیمے اٹھا لیا و خودداری میں

منکرعظمت زہرا پا ہو جم کر لعنت
ایک ذرّا بھی نہ کم ہو کبھی بیزاری میں

بزم احمد سے اٹھاۓ گئے جنکے اجداد
فتوے بدعت کے دیا کرتے ہیں مککاری میں

ہے مسلمانو پہ احسان کے قیدی ہوکر
یہ بچا لاۓ شریعت کو بھی بیماری میں

التجا اتنی سی ہے باب حوائج سے ظہیر
عمر کٹ جائے میری شھ کی عزاداری میں

Jashn-e-Baqir Mana Liya Jaye

ذہن دل کو سجا لیا جائے
جشن باقر منا لیا جائے

گھر میں محفل سجا کے باقر کی
امبیا کو بلا لیا جائے

گو کے کمسن تھے بولے بابا سے
تختے شامی ہلا دیا جائے

آپ ہی اسکا فیصلہ کر لیں
خلد میں حر یا حرملہ جائے

ایک مسکان سے سرے میداں
قسرے بیعت گرا دیا جائے

او چل کر خرید لیں جنّت
شاہ پا آنسو بہا لیا جائے

جیسے چاهتا ہے وقت کا مہدی
بس اسی طور سے جیا جائے

دل سے اطراف ماصیت کر کے
خود کو بھی حر بنا لیا جائے

عرش تک جو سنائی دینے لگے
ایسا نارا لگا لیا جائے

مدح باقر ظہیر کرنی ہے
لفظ ہر ایک سجا لیا جائے

Qalb-e-Paighambar pa nazil surah e kausar hua

متقی و بن گیا کچھ اور اونچا سر ہوا
مرتبہ اسکو ملا جو پروے رہبر ہوا

تینوں آیت لے کے آیئں آمد زہرا کا نور
قلب پیغمبر پہ نازل سورہ کوثر ہوا

آج بھی قیام ہے زہرا کا پسر مہدی دین
کھ رہا تھا جو نبی کو خود ہی و ابتر ہوا

ڈونڈھے سے ملتا نہیں ہے نام کا کوئی یزید
اور حسین ابنے علی کا تذکرہ گھر گھر ہوا

عاشق زہرہ کی خاطرتھا یہ سارا اہتمام
ورنہ پھر صحرا میں کیوں یہ انتظار حر ہوا

لے کے نیزا جس گھڈی پہچا و زہرا کا پسر
دیکھ کر آتا جری کو نہر پر محشر ہوا

کھلبلی تھی اس قدر کے کچھ نہ آتا تھا نظر
کیسا گھوڈا کیسا نیزہ سب ادھر کا ادھر ہوا

ایک نیزے نے ہے بدلہ جانے کتنو کا نصیب
کوئی ریسر بن گیا تو کوئی چھو منتر ہوا

منقبت بنتے نبی کی جب بھی لکھتا ہے ظہیر
لفظ سارے کھل اٹھے ہر شیر ہی گوہر ہوا

Neha charag jalana hai aagahi ke liyen

سجایا ہے سارا جہاں گیارویں ولی کے لیں
فلک سے آ گئے تارے بھی روشنی کے لیں

دعایں مانگو کے دنیا میں اسکری آے
خلا ہے رحمتے باری کا در سبھی کے لیں

تمام عزتیں اسکا طواف کیوں نا کریں
لبوں کو کھولیگا جو مدح اسکری کے لیں

ہماری نسلوں پا احسان کر دیا مولا
نہا چراغ جلایا ہے آگاہی کے لیں

نہا تو رکھکھا پہچان بھی کرائی ہے
یہ مرحلہ نہیں آسان ہر کسی کے لیں

زمیں سجی ہے زمانہ ہے انتظار ظہور
درود بھیجو سبھی مل کے آخری کے لیں

میرے امام یہ کھ دیں براے مدح سنا
ظہیر لفظ سجاے ہیں دل کشی کے لیں

Fikr main jiski inqlaab nahi

فکر میں جس کی انقلاب نہیں
ہان و ہی شخص کامیاب نہیں

معالے دنیا کی فکر غالب ہے
آخرت کا کوئی حساب نہیں

آکے محفل میں جو بھی بیٹھ گیا
اس سے پھر وقت کا حساب نہیں

خون نہ حق بہا گیا ہے یزید
آل کو اسکی ارتکاب نہیں

ایک بیٹے نے خواب میں دیکھا
میرے والد پا کچھ عذاب نہیں

جس کو آییوب نے سلام کیا
صبر میں شاہ کا ہم رکاب نہیں

یککو تنہا کھڈے ہیں رن میں حسین
پھر بھی چہرے پا اضطراب نہیں

جسکو پینے سے حر کو ہوش آیا
عشق کا جام تھا شراب نہیں

لے کے دوزق سے خلد آ ہی گیی
حر کی قسمت کا بھی جواب نہیں

غاصب حققے فاطمہ کے لیں
سبض گمبد میں بھی ثواب نہیں

پروے رہبرے امام بنو
اس سے پیارا ظہیر خاب نہیں

Be khata jurm ka iqraar nahi kar sakta

اپنے اتوار چمکدار نہیں کر سکتا
بعد نسب مدحت سرکار نہیں کر سکتا

لاکھ کہتا رہے اب اے غیبت سے امام
بے نمازی کبھی دیدار نہیں کر سکتا


بے خطا جرم کا اقرار نہیں کر سکتا
گھر جلا ہے کوئی انکار نہیں کر سکتا

لاکھ لیٹا کرے گمبد میں کوئی جا کے ظہیر
رب کو راضی کبھی مککار نہیں کر سکتا


بے خطا جرم کا اقرار نہیں کر سکتا
بد نسب مدحت سرکار نہیں کر سکتا

لاکھ کہتا رہے اب اے غیبت سے امام
بے نمازی کبھی دیدار نہیں کر سکتا

حوصلہ میثم تممار سے جو لے نا سکے
مدھے حیدر و سرے دار نہیں کر سکتا

ایک حیوان کی رطوبت ہی تیری قسمت ہے
تو وفا ان سے بھی غدّار نہیں کر سکتا

فرش مجلس پا جو آتا ہے پرایا بھی ظہیر
شاہ کے قاتل سے کبھی پیار نہیں کر سکتا

Mere Aqa Mere Sarkar Madeene Wale

میرے آقا میرے سرکار مدینے والے
رہبر مونس غمخوار مدینے والے

باروان آ گیا جس روز بھی غیبت سے ظہیر
قبر سے بھا گینگیں غدّار مدینے والے


मेरे आक़ा मेरे सरकार मदीने वाले
रहबरो मूनिसो ग़मखार मदीने वाले

हो करम मुझपे भी एक बार मदीने वाले
देखलूँ आपका दरबार मदीने वाले

इतना काफी है बसारत के लिए आँखों की
रौशनी और दरो दीवार मदीने वाले

बे महल रोना खिलाफत की निशानी तो नहीं
आपका पहलू है और ग़ार मदीने वाले

मान लेते के ये इस्लाम जफ़ा से फैला
गर ना होता तेरा किरदार मदीने वाले

उसके एहवाल को पूछा कि किया हो जिसने
रास्ता आपका पुरखार मदीने वाले

इस क़दर आपने शफ़क़त से उसे पूछा था
हो गयी आपकी बीमार मदीने वाले

मैं मदीने से नजफ़ जाऊं वहाँ से जन्नत
इतनी ही है मुझे दरकार मदीने वाले

या इलाही ये मदीने का नज़ारा बदले
फिर बनें रौज़ा ए मिस्मार मदीने वाले

छोड़ कर आपकी मय्यत को सक़ीफ़ा पहुँचे
किस क़दर हो गए मक्कार मदीने वाले

लाके ईमान जो ईमान से पलटा वो भी
बन गया दीन का सरदार मदीने वाले

बारवां आएगा जिस रोज़ भी ग़ैबत से ज़ुहैर
क़ब्र से भागेंगे ग़ददार मदीने वाले