مولا جہاں دین کے سلطان ہیں حسین
نوکے سنا پا بولتا قران ہیں حسین
ڈھونڈے سے اس جہاں میں ملتا نہیں یزید
دونو جہاں میں دین کی پہچان ہیں حسین
مولا جہاں دین کے سلطان ہیں حسین
نوکے سنا پا بولتا قران ہیں حسین
ڈھونڈے سے اس جہاں میں ملتا نہیں یزید
دونو جہاں میں دین کی پہچان ہیں حسین
یزید والوں کے چہرے پا شکن ہے قاسم
توکمسنی میں بھی تصویرے حسن ہے قاسم
شہد سے میٹھا ہے حق پر شہید ہو جانا
جدا زمانے سے تیرا یہ سخن ہے قاسم
دکھانے آیا ہے جوہر جری کے حملوں کے
چچا سے سیکھے ہوئے جنگ کے فن ہے قاسم
نظر میں لاۓ گا کیسے عدو کے لشکر کو
جری کی جان ہے جس میں و بدن ہے قاسم
مٹا کے ارزق شامی کے چاروں بیٹوں کو
ستم پا ہے یہ ستم جلوا فگن ہے قاسم
صتم کو تارے جو سففین میں نظر اے
انہی کی کربوبالا میں تو کرن ہے قاسم
زہیر پیاس بھی احساس سے یہ کہنے لگی
کے اب تو لگنے لگی پیاس مگن ہے قاسم
مصطفیٰ کا صدقہ ہے ہر خوشی مدینے میں
ظہن دل کو ملتی ہے روشنی مدینے میں
زندگی زہیر اپنی کامیاب ہو جائے
سانس آے گر مجھکو آخری مدینے میں
یزید والوں کو یہ ہی تو جلن ہے فضزہ
تو ظلمتوں کے اندھیروں میں کرن ہے فضزہ
تو ہم کلام نبوّت ہے ہم کلام بتول
یہ ہی سبب ہے کے تو پاک ظہن ہے فضزہ
تو پالتی ہے امامت رسول کے گھر میں
یہ منفرد تیرا دنیا میں چلن ہے فضزہ
اب اس سے بڑھ کے فضیلت بیان کیسے ہو
حد ہے زہرہ نے کہا میری بہن ہے فضزہ
پکا کے روٹیاں دیتی ہے عرش والوں کو
ملک یہ کہتے ہیں انمول رَتَن ہے فضزہ
الٹ کے رکھ دیا دربار شام کو جسنے
یہ الگ بات کے پابندے رسن ہے فضزہ
جہاں پے چار اماموں نے پرورش پائی
عقیدتوں کا و شاداب چمن ہے فضزہ
ہے تجھ پا خاص عنایات یہ سییدہ کی زہیر
سجا ہوا تیرے لیب پر جو سخن ہے فضزہ
مککہ امام کا ہے مدینہ امام کا
ہے منتظر یہ سارا زمانہ امام کا
پر نور اس قدر ہے سراپا امام کا
اغیار کی صفوں میں ہے چرچا امام کا
عیسیٰ بھی انتظار میں آکھیں بچھاے ہیں
پانی پی کب بچھے گا مسللہ امام کا
جشن ولاے مہدی دوران ہے دوستوں
لینے ملک بھی آے ہیں صدقہ امام کا
اوصاف کردگار کا پیکر امام ہیں
ہے نبزے کینات پا قبضہ امام کا
موہلت بھی بھا گنے کی ملیگی نہ قبر سے
مٹتی کو جب ملیگا اشارہ امام کا
تلوار بے نیام کفن ہو میرا لباس
گر میرے بعد اے زمانہ امام کا
کہتے ہو ال اجل بھی نمازوں سے دور ہو
قبل ظہور ہم سے ہے شکوہ امام کا
جسکو پسند بھائی کا چہرہ نہیں ظہیر
کیا خاک دیکھ پایےگا چہرہ امام کا
ظالم بھی اور ظلم بھی تیرو کمان تک
ہمّت جٹا کے آے کبھی بے زبان تک
اصغر نے اس طرح سے بچایا ہے دینے حق
بعت تو کیا قدم کا نا پایا نشان تک
جشن ولا تو ہمنے سجایا تھا فرش پر
اصغر کے ذکر کی ہے مہک آسمان تک
اس طرح سے شکستہ کیا ہے صغیر نے
پھر ہاتھ حرملہ کا نا پہچا کمان تک
بس مسکرا کے جنگ کا نقشہ پالت دیا
بعت تو کیا قدم کا نا پایا نشان تک
فرشے عزا نے باقی رکھا ہے ہمیں ظہیر
ہوتا ہے انکا ذکر حد لا مکان تک
صرف امروہہ میں ہی صدیوں سے
ایک نیی عید پائی جاتی ہے
جب چھٹی اے میرے مولا کی
روٹی بوٹی پکائی جاتی ہے
سجایا ہے سارا جہاں آج پھرعلی کے لیں
فلک سے آ گئے تارے بھی روشنی کے لیں
رجب کی تیرا ہے کعبے میں آ رہے ہیں علی
حرم کی کھل اٹھی دیوار بھی خوشی کے لیں
ثوا حیدر کررارکیا جہاں والوں
حنسی ہے کعبے دیوار بھی کسی کے لیں
سقیفہ والوں تمہیں مرکے بھی نہ چین ملا
مرے تو لیٹے بھی جا کر برابری کے لیں
زمانہ ہمکو مٹا دے یہ غیر ممکن ہے
دعایں مانگی ہیں زہرا نے ماتمی کے لیں
تمام عزتیں اسکا طواف کیوں نہ کریں
ظہیر لفظ سجاے جو دل کشی کے لیں
مولا جہاں دین کے سردارعلی ہیں
والیوں کے ولی صفدر جررار علی ہیں
ہو بدر احد خندق خیبر یا نہروان
جس سے ڈرا ہے ظلم و للکارعلی ہیں
بستر پا یہ لیٹیں تو نبوعت کو بچا لیں
سو جایں تو قدرت کے خریدارعلی ہیں
اک وارمیں دوکرتے ہیں اور دونو برابر
ہو جنگ کا میدان تو فنکارعلی ہیں
بخخن جو کہا تھا اسے کیوں بھول گئے ہو
ایسا نا کرو شیخ جی سردارعلی ہیں
حق مار کے بن بیٹھے ہوامّت کے خلیفہ
بے فاصلہ مسند پا ہوں حقدارعلی ہیں
کہتی ہے تو کہتی رہے دنیا رضیاللہ
بیزارجو زہرا ہیں تو بیزارعلی ہیں
ہمکو نہ ڈرانہ کبھی اے گردش دوران
ہر وقت مدد کرنے کو تییارعلی ہیں
عبّاس نظر آتے ہیں سففین میں حیدر
یا شکل میں عبّاس کی تکرارعلی ہیں
مشل کشا کا روضہ ہے مشل نہیں ظہیر
کس روض بلا لیں تجھے مختارعلی ہیں
ظلمت کے اندھیروں کا اثر بے اثر ہوا
جس دم جہاں میں نور تقی جلواگر ہوا
تقوے کا نور ان سے ہی پھیلا جہاں میں
شاداب دو جہاں میں رضا کا شجر ہوا
الفت تقی سے جو بھی رکھے شاد بعد ہے
منکر تقی کا کوئی بھی ہو در با در ہوا
دسویں رجب کو آے ہیں مولا تقی ظہیر
دانشوروں میں جشن تقی رات بھر ہوا