ریسی آپکا جانا بڑا خلیگا ہمیں
وزیر آپ سا اب پھر کہاں ملیگا ہمیں
میرے امام نے ملنے تمہیں بلایا ہے
سجیگا جشنے رضا تو یہ ہی کہیگا ہمیں
ریسی آپکا جانا بڑا خلیگا ہمیں
وزیر آپ سا اب پھر کہاں ملیگا ہمیں
میرے امام نے ملنے تمہیں بلایا ہے
سجیگا جشنے رضا تو یہ ہی کہیگا ہمیں
بصد خلوص بصد احترام کرنا ہے
جوکام قد سے بد ہے و کام کرنا ہے
جھکاے سر کو پے فاطمہ رسول ضمن
علی حسین حسن کو سلام کرنا ہے
قلم کی نوک سے یہ بھی تو کام کرنا ہے
فقیر شام کا جینا حرام کرنا ہے
بچا کے فرش عزا یہ بتا گییں زینب
حسین آپکے مقصد کو عام کرنا ہے
کرینگے قتل زہرا پی لعنت جام کر
حرام زادوں کا جینا حرام کرنا ہے
یہ کلام حق ہر ایک لفظ کی آواز ہے
بس در آل نبی ممتاز تھا ممتاز ہے
آکے جنّت سے ملک جھولا جھولتے ہیں یہاں
فاطمہ زہرا کے گھر کی نوکری اعزاز ہے
اختتام جنگ کرنے ایگا نرجس کا لال
صلح شبّر کربلا کی جنگ کا آغاز ہے
صلح کی تحریر پڑھ کر ظلم بھی کہنے لگا
صلح شبّر میں نبی کی صلح کا انداز ہے
حق بیانی میثم تممار سے سیکھو ذرا
دار سے مدح سنا کا انکا ہی انداز ہے
کہ کے یہ شببر نے ہر کی خطایں بخس دیں
آزاد ہے تو دو جہاں میں اور سر افراز ہے
انکی الفت پاک ہے قران سے ثابت ہے یہ
اور ذرا سا بگز انسے مدار امراز ہے
غاصبوں کو حشر میں بقشہ نہ جاے گا ظہیر
مصطفیٰ کی لاڈلی ناراز تھی ناراز ہے
محے سیام نے پائی نصول کی خوشبو
چمن سے فاطمہ زہرہ کے پھول کی خوشبو
صدایں گنگ ہیں ابتر کی اب زمانے میں
گل مراد سے مہکی رسول کی خوشبو
ہر منکر گدیر ہے یوں پچوتاب میں
مولا کے مانا ڈونڈھ رہا ہے کتاب میں
جیسا نبی کو مانا ہے ویسا ہی مانئے
ورنہ پڑے رہوگے مسلسل عذاب میں
چن کر رداے فاطمہ زہرہ سے آی ہے
دوگنا مزہ ہے آج غدیری شراب میں
مرحب کا بال بھی کوئی بیکا نہ کر سکے
اے تھے شیخ لڑنے بڑی أبوتاب میں
زہرہ کا گھر جلا کے جو مسند نشیں ہوا
لعنت کا طوق اسکے ایصالے ثواب میں
ایگا لیکے پرچم عبّاس و ظہیر
ایک جا نشیں علی کا ابھی ہے حجاب میں
جھلستی گرمی میں بھی تو دیکھو بہار صحرا میں آ رہی ہے
زمانہ حج کا گزر رہا ہے زمین خم مسکرا رہی ہے
علی کو مولا کہا نبی نے خدا نے دیں کر دیا مکمّل
خوشی سے کچھ لوگ کھل رہے ہیں کسی کی رنگت ہی جا رہی ہے
رک جاؤ انتظار کرو اور بلا بھی لو
آقا کا ہے فرمان سبھی بول رہے ہیں
ممبر پا کجاوں کے اٹھے ہوئے حیدر
من کنتو علی خم میں نبی بول رہے ہیں
بصد خلوص بصد احترام کرنا ہے
جوکام قد سے بد ہے و کام کرنا ہے
جھکاے سر کو پے فاطمہ رسول ضمن
علی حسین حسن کو سلام کرنا ہے
قلم کی نوک سے یہ بھی تو کام کرنا ہے
فقیر شام کا جینا حرام کرنا ہے
بچا کے فرش عزا یہ بتا گییں زینب
حسین آپکے مقصد کو عام کرنا ہے
کرینگے قتل زہرا پی لعنت جام کر
حرام زادوں کا جینا حرام کرنا ہے
یہ کلام حق ہر ایک لفظ کی آواز ہے
بس در آل نبی ممتاز تھا ممتاز ہے
آکے جنّت سے ملک جھولا جھولتے ہیں یہاں
فاطمہ زہرا کے گھر کی نوکری اعزاز ہے
اختتام جنگ کرنے ایگا نرجس کا لال
صلح شبّر کربلا کی جنگ کا آغاز ہے
صلح کی تحریر پڑھ کر ظلم بھی کہنے لگا
صلح شبّر میں نبی کی صلح کا انداز ہے
حق بیانی میثم تممار سے سیکھو ذرا
دار سے مدح سنا کا انکا ہی انداز ہے
کہ کے یہ شببر نے ہر کی خطایں بخس دیں
آزاد ہے تو دو جہاں میں اور سر افراز ہے
انکی الفت پاک ہے قران سے ثابت ہے یہ
اور ذرا سا بگز انسے مدار امراز ہے
گاسیبوں کو حشر میں بقشہ نہ جاے گا ظہیر
مصطفیٰ کی لاڈلی ناراز تھی ناراز ہے
یا رب تجھے قسم ہے تیرے اختیار کی
شق جس طرح سے کعبے کی تونے جدار کی
غیبت سے اب تو بارویں حیدر کو بھیج کر
کر دے سبیل بنت نبی کے مزار کی
پیر جوان جننو ملک یہ فضا تلک
سب رہ تک رہے ہیں تیرے تاج دار کی
آکر نبی کے روزے سے غاصب جدا کرو
خضرا سے آ رہی ہے ہوا انتظار کی
پھر آکے تمکو دادی کا روزہ بنانا ہے
اور لینی ہے خبر بھی ہر ایک نہ بکار کی
جب سے سنا ہے باروں کعبے سے ایگا
دن رات شیخ کو ہے فکر ایک جدار کی
داد سخن تو ٹھیک ہے یہ بھی دعا کریں
ہو منقبت قبوول بھی اس خاکسار کی