Jamal-e-Mustafa Allah ne Rakhkha hai Akbar main

خوشی فرزند کی آی ہے یہ کہتی ہوئی گھر میں
جمال احمد مختار ہے لیلیٰ کے دلبر میں

خدا کو خود کی خلقت اس قدر پیاری لگی لوگوں
بنائی پھر وہی تصویر ہم شکلے پیامبر میں

جمال حضرت یوسف دوبارا پھر نہیں دیکھا
جمال مصطفیٰ الله نے رکھا ہے اکبر میں

ہو گر مخلص تو یہ تم کو کہیں سے بھی بلا لینگے
اثر دیکھا نہیں ہے تھمنے کیا اذان اکبر میں

ہے جشن دلبر سرور جو چاہو مانگ لو ظہیر
ملیگا و بھی جو ہے نہیں تیرے مقدّر میں

Islam ki hayat badha di husain ne

ظالم کو اس طرح بھی سزا دی حسین نے
بیعت کے گھر میں آگ لگا دی حسین نے

آنگن میں آج فاطمہ زہرا کے دھوم ہے
شعبان میں ہی عید کرا دی حسین نے

ترمیم کرکے بگڑے مقدّر میں دیکھئے
راہب تیری تقدیر بنا دی حسین نے

انکی عطا تو عرش مکینو سے پوچھئے
رہ کر زمیں پا روٹی کھلا دی حسین نے

دم گھٹ رہا تھا دینے محمّد کا دوستوں
سانسوں سے اپنی اسکو جلا دی حسین نے

تیروں پا جہ نماز بچھا کر سرے میداں
پڑھ کر نماز شکر دکھا دی حسین نے

جلتی زمیں پا سجدہ خالق کے ساتھ ساتھ
اسلام کی حیات بڑھا دی حسین نے

اسلام کو تو جان عطا کی مگر یزید
اوقات تیری سبکو بتا دی حسین نے

کربو بلا میں صرف یہ سجدہ نہیں کیا
ہمکو رہے نجات دکھا دی حسین نے

نا قبیلے تلافی گناھوں کے با وجود
حر تیری موحبّت کی جزا دی حسین

کرکے سوال قسم نوشہ سے ظہیر
خود موت کو ہی موت چکھا دی حسین نے

Mola humen ghadeer ke mimbar se mila hai

مجھکو علی کا عشق مقدّر سے ملا ہے
یا یوں کہوں کہ ساتھ میرے ماں کی دعا ہے

میرے تو فقط ندے علی وردے زبان تھی
طوفان نے کشتی کو میری پار کیا ہے

دارو رسن کا خوف نہ دل کو ڈرا یگا
گر حوصلہ تھمنے ذرا میثم سے لیا ہے

کیسکو ملا کسی سے یہ امّت بتاے گی
مولا ہمیں غدیر کے ممبر سے ملا ہے

ہم کیسے بڑھا ینگے فضائل غدیر کے
قرآن نے قرآن کو من کنتو کہا ہے

جو کرنے کو ترمیم شریعت اٹھا کبھی
دنیا میں ہی دو زق کا مزا اسنے لیا ہے

کس طرح ادا اجر رسالت ظہیر ہو
ہمکو یہ ہنر حضرت قمبر سے ملا ہے

Har lafz main quraan ke mohammed ki sana hai

مجھکو نبی کا عشق مقدّر سے ملا ہے
یا یوں کہوں کہ ساتھ میرے ماں کی دعا ہے

اس درجہ خدا کو ہے موحبّت حضور سے
ہر لفظ میں قرآں کے محمّد کی سنا ہے

قران پڑھ رہا ہے نعت رسولے پاک
ہر لفظ میں قرآں کے محمّد کی سنا ہے

تیٰ ھیٰ ہو مزممل ہومد ثر ہوکے یٰسیں
ہر لفظ میں قرآں کے محمّد کی سنا ہے

خود کو جو نبی جیسا بشر کہتا ہے سن لے
ہر لفظ میں قرآں کے محمّد کی سنا ہے

جو کرنے کو ترمیم شریعت اٹھا کبھی
دنیا میں ہی دو زق کا مزا اسنے لیا ہے

کس طرح ادا اجر رسالت کرو مہدی
ہمکو یہ ہنر میسمو قمبر سے ملا ہے

Gulshan main Imamat ke navan phool khila hai

پھولوں نے مسکرا کے یہ پیغام دیا ہے
دسویں رجب ہے آمد فرزندے رضا ہے

دلہن زمیں بنی ہے مسرّت کی فضا ہے
مولا تقی کا آمدے پرنور ہوا ہے

ابتر جو کہ رہا تھا زمانہ و دیکھ لے
گلشن میں امامت کے نواں پھول کھلا ہے

رحمت ہے فضیلت ہے یہ خالق کی اتا ہے
یہ جشنے ولا ہمکو سعادت سے ملا ہے

جبریل دے رہے ہیں صدا آسمان سے
گھر میں رضا کے آج نیا پھول کھلا ہے

تقوا ہے امامت ہے شجاعت ہے سخاوت
جس رخ سے انہیں دیکھئے تصویرے رضا ہے

بچپن میں بتایا ہے سنو ہم نہیں ڈرتے
اس طرح بھی مامون کو مغلوب کیا ہے

ماتم کبھی شبّیر کا کم ہو نہیں سکتا
دیتا ہے سکوں دل کو فقط اتنا پتا ہے

پردہ رہے ہر قوم کی بیٹی کا سلامت
اس جشنے مسرّت میں یہ خالق سے دعا ہے

اوصافے تقی تمسے ادا ہو سکیں ظہیر
اس جشنے مسرّت میں یہ خالق سے دعا ہے

Be Qarari hi Be Qarari hai…

انکی مدحت کی و خماری ہے
میری ہر سانس مشکباری ہے

مجھکو طیبہ بلائے آقا
میری ہر سانس مجھپا بھاری ہے

جسکے حسنین سے سوار ہوئے
کیا پیامبر سے و سواری ہے

میرے بھی ہاتھ میں علم ہوگا
شیخ پرکیوں جنوں تاری ہے

میں بھی گھر جاؤنگا علم لیکر
شب اسی خواب میں گزاری ہے

سخ کو تو علم ملا ہی نہیں
بے قراریہ ہی بے قراری ہے

دشمن دین پا بھیجنا لعنت
ہر مسلمان کی زممیداری ہے

حق بیانی کرو سادہ مہدی
یہ موحبّت کی پاسداری ہے

جہاں رباب کے بیٹے کا تذکرہ ہوگا

نبی کی آل کا جس گھر میں تذکرہ ہوگا
شریک بزم بھی ہر ایک امبیا ہوگا

اگر جو اجر رسالت نہیں ادا ہوگا
نماز روزا حج کا نہ فایدہ ہوگا

وہاں پا کمسنی حیدر کی یاد ایگی
جہاں رباب کے بیٹے کا تذکرہ ہوگا

جہاں پا ظلم ہو ظالم ہو اور دھوپ ہی دھوپ
وہاں پا پیاس کا اصغر سے سامنا ہوگا

ابھی تو اصغر بشیر رن میں آیا ہے
کمانو تیر کو ڈر ہے کے آگے کیا ہوگا

ہوئی ہے جیت بھلا کسکی یہ ذرا سوچو
ستم کیوں پھیر کے منھ اپنا رو رہا ہوگا

ظہیر جسنے بھی اصغر لکھا ہے سینو پر
اسے جہاں میں نہ اب خوف حرملہ ہوگا