Kisi Nazar ko Tera Intezaar Aaj bhi hai

علی کے بغض میں جسکو بخار آج بھی ہے
سقیفہ چھائی ہے اس پر خمار آج بھی ہے

قدیمی آپکی نفرت ہے یہ دکھاتا ہے
نبی کی بیٹی کا ٹوٹا مزار آج بھی ہے

ہے ال اجل کی صدایں عمل میں کچھ بھی نہیں
کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہے

نہ حرملہ ہی رہا اور نہ تیر ہے باقی
ہر ایک زباں پر مگر شیخوار آج بھی ہے

بتا رہیں ہیں بھتر یہ دھڑکنے دل کی
ہر ایک سانس پے شاہ کا ادھار آج بھی ہے

سلیکا مانگنے والے کا دیکھا جاتا ہے
علی کی طرح جو دے دے قطار آج بھی ہے

منفقین کو اتنا پیام دے دو ظہیر
علی کا شیر شہ ذولفقار آج بھی ہے

Bahare Surah e Kausar hain fatima zahra

نبی کو ماں کے برابر ہیں فاطمہ زہرہ
سب عظمتوں سے بھی اوپر ہیں فاطمہ زہرا

رسالتوں کا امامت سے سلسلہ دیکھو
حسن حسین کی مدار ہیں فاطمہ زہرہ

خدا نے عرشے بریں پر بلا کے سوپا ہے
بہار سورہ کوثر ہیں فاطمہ زہرا

کلام پاک کے سورے گواہی دیتے ہیں
فضیلتوں کا سمندر ہیں فاطمہ زہرا

زبان آیا تطہیر پر سجا ہے یہ ہی
طہارتوں کا بھی محور ہیں فاطمہ زہرا

دعا جو کرتے ہے راضی خدا کے ہونے کی
گی کیا راضی بھی ہوکر ہیں فاطمہ زہرا

فرشتہ در پی کھڈا ہے کے ازن مل جائے
کیا خدا تیرے برابر ہیں فاطمہ زہرا

ظہیر میرے برابر نہیں تو کم بھی نہیں
میں لم یلد ہوں تو کوثر ہیں فاطمہ زہرہ

Vo dekho karbala main kya ali asghar k tewar ha

hai ye besheer ka sadqa mere bacche badur hain
ye dil se sher hain sare ali asghar ke naukar hain

liye zanjeer hathon main batate hain zamane ko
Vo dekho karbala main kya ali asghar k tewar ha

Kisi k dar pe kyun jaayen bhala ghairon se Kyun manngen
Hamare rhnoma jab 5, 12 or Bahartaar hain

Kiya karta hun main khud hi ziyarat apni aankhon ki
meri Ankhon main ab bhi karbala ke sare manzar hain

ye hi kah kar bichata hun musalla farshe majlis par
hamare to musalle bhi falak tere barabar hain

Khazra se aa rahi hai sada intezaar ki

یا رب تجھے قسم ہے تیرے اختیار کی
شق جس طرح سے کعبے کی تونے جدار کی

غیبت سے اب تو بارویں حیدر کو بھیج کر
کر دے سبیل بنت نبی کے مزار کی

پیرو جوان جنوں ملک یہ فضا تلک
سب راہ دیکھتے ہیں تیرے تاجدار کی

آکر و پھلے دادی کا روضہ بناے گا
پھر لیگا و خبر بھی ہر ایک نہ بکار کی

کچھ لوگ اپنی قبروں میں بھی بے قرار ہیں
خضرا سے آ رہی ہے ہوا انتظار کی

جب سے سنا ہے باروں کعبے سے ایگا
دن رات شیخ کو ہے فکر ایک جدار کی

داد سخن تو ٹھیک دعا یہ کرو ظہیر
ہو منقبت قبوول اب اس خاکسار کی

Mohammad ke Gulamon ka kafan maila nahi hota

محبّت ہو تو عاشق سے کوئی دھوکہ نہیں ہوتا
عبادت ہوتی ہے جب تو کوئی سودا نہیں ہوتا

عمل کر لیتے احمد کی اگر سیرت پا ہم لوگوں
تو دنیا کے کسی گھر میں کبھی فقہ نہیں ہوتا

بتاتی ہے یہ حجر ابن عدی کی لاش بھی ہمکو
محمّد کے غلاموں کا کفن میلہ نہیں ہوتا

تفرقہ قوم میں اپنی کبھی ہوتا یہ نہ ممکن
غدیرے خم کو لوگوں نے اگر چوڑا نہیں ہوتا

علی کو چھوڈ کر احمد سے الفت ہے اگر دل میں
مناصب یوں بنا در کے کہیں جانا نہیں ہوتا

نہ چھنتی بابری مسجد نہ چھنتا قبلہ اول
در حیدر کو لوگو نے اگر چودہ نہیں ہوتا

اگر چوڑا نہیں ہوتا در حیدر کو لوگوں نے
تو ہر ایک دوسری مسجد کا یہ مثلا نہیں ہوتا

Bana Ghadeer main Mimbar Faqat Ali ke Liyen

بنا غدیر میں ممبر فقط علی کے لیں
علی ہیں مولا بتایا گیا سبھی کے لیں

نبی کے بعد ہے مولا ے دو جہاں علی
اعلان خم میں کرایا گیا اسی کے لیں

اٹھا کے ھاتھوں پا دکھلا دیا کہے نہ کوئی
کے سن ہی پاے نہ اعلان تھا کسی کے لیں

سقیفہ والوں تمہیں مرکے بھی نہ چین ملا
مرے تو لیٹے بھی جا کر برابری کے لیں

زمانہ ہمکو مٹا دے یہ غیر ممکن ہے
دعایں مانگی ہیں زہرا نے ماتمی کے لیں

تمام عزتیں اسکا طواف کیوں نہ کریں
ظہیر لفظ سجاے جو دل کشی کے لیں

Mola ke mana dhoondh raha hai kitaab main

ہر منکر غدیر ہے یوں پچوتاب میں
مولا کے معنا ڈھونڈ رہا ہے کتاب میں

جیسا نبی کو مانا تھا ویسا ہی مانئے
ورنہ پڑے رہوگے مسلسل عذاب میں

چھن کر رداے فاطمہ زہرہ سے آی ہے
دوگنا مزا ہے آج ولا کی شراب میں

مرحب کا بال بھی کوئی بانکا نہ کر سکے
اے تھے شیخ لادنے بدی أبوتب میں

زہرہ کا گھر جلاکے جو مسند نشی ہوا
لعنت کا طوق اسکے ایصالے ثواب میں

ہر منکر غدیر سے لینے کو انتقام
ایک جانشیں علی کا ابھی ہے حجاب میں

Sulh-e-Hasan ke deen pa hain ehsaan bohat

حمد سنا کے مجھ پر ہیں احسان بہت
اس کی بدولت اپنی ہے پہچان بہت

جنّت میں ان سب سے ہے پہچان میری
محفل میں جو آتے ہیں رضوان بہت


میرے لبوں پر مولا کا گن گان بہت
سنکر کر مفتی کیوں ہے تو حیران بہت

دانہ ہی بس انسے موحبّت کرتا ہے
بگز میں انکے جلتا ہے شیطان بہت


مل جاتا ہے خالق کا عرفان بہت
ذکر حسن کے اور بھی ہیں فیضان بہت

مولا حسن کی آمد سے بے مسل ہوا
آے حسن سے پہلے بھی رمضان بہت


پڑھتے ہو تم حافظ جی قران بہت
رٹ تو لیا پرعظمت سے انجان بہت

دہشت گرد ہی کہلاتا اسلام صدا
صلح حسن کے دین پا ہیں احسان بہت


آدھے ادھورے علم کے ہیں نقصان بہت
شیخ سے پوچھو کہتے تھے قران بہت

اجر رسالت کیا ہے یہ تو یاد نہیں
اور نبی کے یاد ہیں سب فرمان بہت

لڑنے علی کو احمد نے یوں بلوا ہی یا
بھاگ رہے تھے میداں سے کپتان بہت

تپتے ہوئے صحرا میں ہوا جو بھول گئے
یاد ہیں تمکو باقی سب اعلان بہت

میرے مولا غیب سے جلدی آ جاؤ
ہجر میں تیرے شیعہ ہیں ہل کان بہت

میں نے سنا ہے آپ بھی ہو ہم شکل نبی
دید کرا دو دل میں ہیں ارمان بہت

مدھے مولا یوں بھی نہیں آسان ظہیر
الفت ہو تو ملتے ہیں عنوان بہت

Aao chalen imam Hasan ki janab main

ہر خشکو تر کا علم ہے رب کی کتاب میں
کوئی کتاب ہی نہیں اسکے جواب میں

نور خدا کے ساتھ میں علم کتاب بھی
ایک جیسا ہے رسول میں اور بوتراب میں

دنیا میں مومنین کی عزت حسن سے ہے
او چلیں امام حسن کی جناب میں

در در بھٹک رہی جو نسل غریب شام
ہوگی گرفت سبکی خدا کے تانب میں

ایگا جب تو عدل کا پرچم لئے ہوئے
ہے جا نشیں حسن کا ابھی بھی حجاب میں

چھن کر ردا فاطمہ زہرہ سے آئ ہے
ہے لطف دو جہاں کا ولا کی شراب میں

مرحب کا بال بھی کوئی بیکا نا کر سکے
اے تھے شیخ لڑنے بدی أبوتاب میں

زہرہ کا گھر جلا دیا لیٹے مزار میں
یا رب کمی نہ ہو کبھی انپے عذاب میں

کتنا عظیم لطف ہے حق میں تیرے ظہیر
تم مدح کر رہے ہو حسن کی جناب میں

Jashn-e-wafa ki dhoom hai sare jahan main

تارے دکھایی دیتے ہیں جو آسمان میں
در اصل سارے شیر ہیں غازی کی شان میں

تاریخ ساز شب ہے یہ دو چند ساتھ ہیں
اک ہے علی کے گھر میں اور ایک آسمان میں

کل امبیہ بھی فرشے مسرّت پا آ گئے
جشنے وفا کی دھوم ہے سارے جہان میں

جاھو حشم علی کا ہی سارا لئے ہوئے
بھیجا علی کو حق نے علی کے مکان میں

فرشے عزا حسین کا جس دن سے ہے بچھا
خوشبو مہک رہی ہیں ہمارے مکان میں

بے تیغ آکے نہر سے پانی و لے گیا
فوج یزید الجھی ہے وہمو گمان میں

گھر میں سجا کے محفل مدحت زہیر ہم
جنّت بناے بیٹھے ہیں اپنے مکان میں


مجھکو قصید پڑھنا ہے غازی کی شان میں
تاثیر اے خدا مجھے دے دے زبان میں

عبّاس توعلی کی دعا بھی ہیں شکل بھی
عبّاس جیسا کوئی کہیں ہے جہاں میں

بارہ امام جس میں ہو پیارے نبی کے ساتھ
آیا ہے یہ جری بھی اسی خاندان میں

لالے پڑے ہے جان کے فوجے یزید کو
کیا خط جری نے کھیچ دیا در میان میں

منکر علی کے سارے ہی دوزق میں جاے گیں
جنّت ملے بھی کیسے ادھوری اذان میں

کچھ حوصلہ جٹاؤ کے بے شیر سے لڑیں
باتیں ابھی یہ ہوتی تھیں تیرو کمان میں

جس طرح کربلا میں تھا تیروں کے درمیان
ہمنے علم نکالا اسی ان بان میں

غازی ہمیں بھی کربوبالا میں بلائے
مہدی دعایں کرتا ہے ہندوستان میں